Wednesday, 12 April 2017

شمس العلما مولانا الطاف حسین حالی کی سوانح حیات جو آپ نے بواب عمادالملک بہادر مولوی سید حسن صاحب بلگرامی کی فرمائش پر سپردِ قلم کی

شمس العلما مولانا الطاف حسین حالی کی سوانح حیات
جو آپ نے نواب عماد الملک بہادر
مولوی سید حسین صاحب بلگرامی
کی فرمائش سے سپردِ قلم کی​



میری ولادت تقریباً 1253ھ مطابق 1837ء میں بمقام قصبہ پانی پت جو شاہجہان آباد سے جانبِ شمال 53 میل کے فاصلہ پر ایک قدیم بستی ہے، واقع ہوئی۔ اس قصبہ میں کچھ کم سات سو برس سے قوم انصار کی ایک شاخ جس سے راقم کو تعلق ہے، آباد چلی آتی ہے۔ ساتویں صدی ہجری اور تیرہویں صدی عیسوی میں جب کہ غیاث الدین بلبن تختِ دہلی پر متمکن تھا، شیخ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری معروف بہ پیرِ ہرات کی اولاد میں سے ایک بزرگ خواجہ ملک علی نام جو علومِ متعارفہ میں اپنے عام معاصرین سے ممتاز تھے، ہرات سے ہندوستان میں وارد ہوئے۔ جن کا سلسلۂ نسب 62 واسطہ سے حضرت ابو ایوب انصاری (رح) تک اور 18 واسطہ سے شیخ السلام تک اور 10 واسطہ سے ملک محمود شاہ انجو ملقب بہ آق خواجہ تک جو غزنوی دور میں فارس و کرمان و عراق عجم کا فرمانروا تھا پہنچتا ہے۔ چونکہ غیاث الدین اس بات میں نہایت مشہور تھا کہ وہ قدیم اشراف خاندانوں کی بہت عزت کرتا ہے اور اسکا بیٹا سلطان محمد علما و شعرا و دیگر اہلِ کمال کا حد سے زیادہ قدر دان تھا، اسلئے اکثر اہلِ علم اور عالی خاندان لوگ ایران و ترکستان سے ہندوستان کا قصد کرتے تھے۔ اسی شہرت نے خواجہ ملک علی کو سفرِ ہندوستان پر آمادہ کیا تھا۔ چنانچہ غیاث الدین نے چند عمدہ اور سیر حاصل دیہات پرگنہ پانی پت میں اور متعدد بہ اراضی سوادِ قصبہ پانی پت میں بطور معاش کے اور بہت سی زمین اندروں آبادی قصبہ پانی پت واسطے سکونت کے انکو عنایت کی۔ اور منصبِ قضا و صدارت و تشخیص رخِ بازار اور تولیتِ مزاراتِ آئمہ جو سوادِ پانی پت میں واقع ہیں اور خطابت عیدین ان سے متعلق کر دی۔ پانی پت میں جو اب تک ایک محلہ انصاریوں کا مشہور ہے وہ انہیں بزرگ کی اولاد سے منسوب ہے۔ میں باپ کی طرف سے اسی شاخِ انصار سے علاقہ رکھتا ہوں اور میری والدہ سادات کے ایک معزز گھرانے کی، جو یہاں ساداتِ شہدا کے نام سے مشہور ہیں، بیٹی تھیں۔

میری ولادت کے بعد میری والدہ کا دماغ مختل ہو گیا تھا۔ میرے والد نے سنِ کہولت میں انتقال کیا جبکہ میں نو برس کا تھا۔ اس لئے میں نے ہوش سنبھال کر اپنا سر پرست بھائی بہنوں کے سوا کسی کو نہیں پایا۔ انہوں نے اول مجھ کو قرآن حفظ کرایا، اسکے بعد اگرچہ تعلیم کا شوق خود بخود میرے دل میں حد سے زیادہ تھا مگر باقاعدہ اور مسلسل تعلیم کا کبھی موقع نہیں ملا۔ ایک بزرگ سید جعفر علی مرحوم جو ممنون دہلوی کے بھتیجے نیز داماد بھی تھے اور بوجہ تعلقِ زنان شوئی کے پانی پت میں مقیم تھے اور فارسی لٹریچر اور تاریخِ طب میں یدِ طولٰی رکھتے تھے، ان سے دو چار فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور انکی صحبت میں فارسی لٹریچر سے ایک نوع کی مناسبت پیدا ہو گئی۔ پھر عربی کا شوق پیدا ہوگیا۔ انہی دنوں میں مولوی حاجی ابراہیم حسین انصاری مرحوم لکھنو سے امامت کی سند لے کر آئے تھے، ان سے صرف و نحو پڑھی۔ مگر چند روز بعد بھائی اور بہن نے جن کو میں بمنزلہ والدین کے سمجھتا تھا، تاہل پر مجبور کیا۔ اس وقت میری عمر 17 برس کی تھی اور زیادہ تر بھائی کی نوکری پر سارے گھر کا گزارہ تھا، کہ یہ جؤا میرے کندھے پر رکھا گیا۔ اب بظاہر تعلیم کے دروازے چاروں طرف سے مسدود ہو گئے۔ سب کی خواہش تھی کہ میں نوکری تلاش کروں، مگر تعلیم کا شوق غالب تھا اور بیوی کا میکہ آسودہ حال تھا۔ میں گھر والوں سے روپوش ہو کر دلی چلا گیا اور قریب ڈیڑھ برس کے وہاں رہ کر کچھ صرف و نحو اور کچھ ابتدائی کتابیں منطق کی پڑھیں۔ اگرچہ اس وقت قدیم دہلی کا کالج خوب رونق پر تھا مگر جس سوسائٹی میں مَیں نے نشو و نما پائی تھی وہاں تعلیم کو صرف عربی اور فارسی زبان پر منحصر سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی تعلیم کا خاص کر پانی پت میں اول تو کہیں ذکر ہی سننے میں نہ آتا تھا کہ اگر اسکی نسبت لوگوں کو کچھ خیال تھا تو صرف اس قدر کہ سرکاری نوکری کا ایک ذریعہ ہے، نہ یہ کہ اس سے کوئی علم حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ بر خلاف اسکے انگریزی مدرسوں کو ہمارے علماء جہلے کہتے تھے۔ دلی پہنچ کر جس مدرسہ میں مجھ کو شب و روز رہنا پڑا وہاں کے مدرس اور طلبہ انگریزی کے تعلیم یافتہ لوگوں کو محض جاہل سمجھتے تھے۔ غرض بھول کر بھی انگریزی تعلیم کا خیال دل میں نہ گزرتا تھا۔ ڈیڑھ برس دلی میں رہنا پڑا، اس عرصہ میں کبھی کالج کو جا کر آنکھ سے دیکھا تک نہیں، اور نہ ان لوگوں سے کبھی ملنے کا اتفاق ہوا جو اس وقت کالج میں تعلیم پاتے تھے جیسے مولوی ذکاءاللہ، مولوی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ۔

میں نے دلی میں شرح ملا حسن اور میبذی پڑھنی شروع کی تھی کہ سب عزیزوں اور بزرگوں کے جبر سے چار و ناچار مجھ کو دلی چھوڑنا اور پانی پت واپس آنا پڑا۔ یہ ذکر 1855ء کا ہے۔ دلی سے آ کر برس ڈیڑھ برس تک پانی پت سے کہیں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یہاں بطور خود اکثر بے پڑھی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا۔ 1856ء میں مجھے ضلع حصار میں ایک قلیل تنخواہ کی اسامی صاحب کلکٹر کے دفتر میں مل گئی۔ لیکن 57ء میں جبکہ سپاہِ باغی کا فتنہ ہندوستان میں برپا ہوا اور حصار میں بھی اکثر سخت واقعات ظہور میں آئے اور سرکاری علمداری اٹھ گئی تو میں وہاں سے پانی پت چلا آیا اور قریب چار برس کے (پانی پت میں) بیکاری کی حالت میں گزارے۔ اس عرصہ میں مشہور فضلا مولوی عبدالرحمٰن، مولوی محب اور مولوی قلندر علی مرحوم سے بغیر کسی ترتیب اور نظام کے کبھی منطق یا فلسفہ کبھی حدیث کبھی تفسیر پڑھتا رہا، اور جب ان صاحبوں میں سے کوئی پانی پت میں نہ ہوتا تھا تو خود بغیر پڑھی کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا۔ اور خاص کر علم ادب کی کتابیں شرح اور لغات کی مدد سے اکثر دیکھتا تھا، اور کبھی کبھی عربی نظم و نثر بھی بغیر کسی کی اصلاح یا مشورے کے لکھتا تھا، مگر اس پر اطمینان نہ ہوتا تھا۔ میری عربی اور فارسی تحصیل کا منتہٰی صرف اسی قدر ہے جس قدر اوپر ذکر کیا گیا۔

جس زمانہ میں میرا دلی جانا ہوا تھا، مرزا اسد اللہ خاں غالب مرحوم کی خدمت میں اکثر جانے کا اتفاق ہوتا تھا اور اکثر انکے اردو فارسی دیوان کے اشعار جو سمجھ میں نہ آتے تھے، ان کے معنی ان سے پوچھا کرتا تھا۔ اور چند فارسی قصیدے انہوں نے اپنے دیوان میں سے مجھے پڑھائے بھی تھے۔ انکی عادت تھی کہ وہ اپنے ملنے والوں کو اکثر فکرِ شعر سے منع کیا کرتے تھے مگر میں نے جو ایک آدھ غزل اردو یا فارسی کی لکھ کر ان کو دکھائی تو انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ اگرچہ میں کسی کو فکرِ شعر کی صلاح نہیں دیا کرتا لیکن تمھاری نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر تم شعر نہ کہو گے تو اپنی طبیعت پر سخت ظلم کرو گے۔ مگر اس زمانے میں ایک دو غزل سے زیادہ دلی میں شعر لکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

No comments:

Post a Comment